بنگلورو۔17؍نومبر(ایس اونیوز) خوردنی اناج رعایتی قیمتوں پر کھلے بازار میں حاصل کرنے کی سہولت راشن کارڈ ہولڈروں کو مہیا کرانے کیلئے ریاستی حکومت ڈیبٹ کارڈ کے طرز پر ایک اسمارٹ کارڈ فراہم کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔یہ بات آج وزیر شہری رسد وخوراک یوٹی قادر نے کہی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ راشن نظام کے تحت مٹی کے تیل کی فراہمی میں بے قاعدگیوں کو ختم کرنے کیلئے جس طرح کوپن نظام متعارف کروایا گیا اسی طرح انا بھاگیہ اسکیم کے غلط استعمال پر روک لگانے کیلئے ریاستی حکومت نیا نظام اپنانے پر غور کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس اسمارٹ کارڈ کو رکھنے والے خاندان کے حق میں ریاستی حکومت سبسیڈی کی رقم جمع کرادے گی۔ اس سبسیڈی کے استعمال سے راشن کھلے بازار سے خریدا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس اسمارٹ کارڈ کے ذریعہ راشن کے علاوہ کچھ اور خریدا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے بتایاکہ فی الوقت مٹی کے تیل کی فراہمی کیلئے کوپن کی تقسیم کا کامیاب تجربہ شہر بنگلو رمیں کیاگیا ہے۔ ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوتے ہوئے محکمۂ شہری رسد نے راشن کارڈ ہولڈروں کو مجوزہ کوپن کے ساتھ اسمارٹ کارڈ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسمارٹ کارڈ رکھنے والے افراد کو راشن کی خریداری کیلئے کسی مخصوص دکان جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے سامنے محکمہ نے اس سلسلے میں تجویز پیش کردی ہے، انہوں نے بھی اس تجویز پر کافی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔منظوری ملتے ہی بنگلور میں تجرباتی طور پر اس نظام کو متعارف کروایا جائے گا اور کامیاب تجربے کی بنیاد پر مرحلہ وار ریاست بھر میں وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایاکہ راشن کی تقسیم کے اس نئے نظام کو 2017 کی شرعات میں شہر بنگلور میں متعارف کروایا جائے گا۔ اسمارٹ کارڈ کے استعمال سے فرضی راشن کارڈوں کی شکایات کو کافی حد تک نمٹا جاسکتا ہے۔ اور ساتھ ہی انا بھاگیہ اور دیگر سرکاری اسکیموں کے تحت مہیا کرائے جانے والے اناج کی کالا بازاری کو روکا جاسکتا ہے۔